بٹ کوائن (BTC) کی قیمت گرنے کی وجوہات کو اگر ہم آسان اردو میں سمجھیں، تو یہ بالکل ایک منڈی (Market) کی طرح کام کرتا ہے۔ جب بیچنے والے زیادہ ہوں اور خریدنے والے کم، تو قیمت نیچے گر جاتی ہے۔
یہ رہی اس کی کچھ بڑی وجوہات:
۱. منافع خوری (Profit Taking)
جب بٹ کوائن کی قیمت بہت اوپر چلی جاتی ہے، تو بڑے سرمایہ کار سوچتے ہیں کہ اب منافع کما لینا چاہیے۔ وہ اپنے بٹ کوائن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب مارکیٹ میں بہت سارے بٹ کوائن اچانک بکنے کے لیے آتے ہیں، تو قیمت نیچے آ جاتی ہے۔
۲. عالمی حالات اور خوف
دنیا میں جب بھی معاشی بے یقینی ہوتی ہے—جیسے جنگ کے حالات یا امریکہ میں سود کی شرح (Interest Rates) کا بڑھنا—تو لوگ ڈر جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ بٹ کوائن جیسی خطرناک چیز سے پیسہ نکال کر ایسی جگہ رکھیں جہاں وہ محفوظ رہے (جیسے سونا یا بینک)۔
۳. منفی خبریں (Negative News)
اگر کسی بڑے ملک کی حکومت کرپٹو پر پابندی لگانے یا سخت قانون بنانے کی بات کرے، تو چھوٹے سرمایہ کار گھبرا کر اپنے پیسے نکالنے لگتے ہیں۔ اسے مارکیٹ کی زبان میں FUD (خوف اور بے یقینی) کہتے ہیں۔
۴. ٹیکنیکی وجہ (Correction)
مارکیٹ کبھی بھی سیدھی لکیر میں اوپر نہیں جاتی۔ جیسے سانس لینے کے لیے رکنا پڑتا ہے، ویسے ہی مارکیٹ بہت زیادہ اوپر جانے کے بعد تھوڑا نیچے آتی ہے تاکہ دوبارہ اوپر جانے کی طاقت جمع کر سکے۔ اسے "Correction" کہتے ہیں۔
خلاصہ (Summary)
بیچنے والوں کا بوجھ: جب ڈیمانڈ سے زیادہ سپلائی ہو جائے۔
بڑے سرمایہ کاروں کی چال: وہ کم قیمت پر دوبارہ خریدنے کے لیے قیمت گراتے ہیں۔
گھبراہٹ: عام لوگوں کا ڈر کر سستے داموں میں بیچ دینا۔
