FDV، مارکیٹ کیپٹلائزیشن، لیکویڈیٹی، اور ہولڈرز میں فرق (اردو میں):
1. FDV (مکمل طور پر ڈائیلیوٹڈ ویلیوایشن) - مکمل طور پر ڈائیلیوٹڈ ویلیوایشن
- FDV وہ کل قیمت ہے جب سارے ٹوکن** مارکیٹ میں گردش کر رہے ہوں۔
- اس میں لاک کیے گئے، اسٹیک کیے گئے، یا مستقبل میں جاری ہونے والے ٹوکن بھی شامل ہوتے ہیں۔
-فارمولا:
FDV = کل سپلائی × موجودہ قیمت
- مثال: اگر کسی کوائن کی **کل سپلائی - 1 بلین ہے اور قیمت $1 ہے، تو **FDV = $1 بلین ہوگا، چاہے ابھی صرف 100 ملین مارکیٹ میں ہوں۔
2. مارکیٹ کیپٹلائزیشن (مارکیٹ کیپ) - مارکیٹ کیپٹلائزیشن
- مارکیٹ کیپ صرف - گردش میں موجود سپلائی (مارکیٹ میں دستیاب ٹوکن) کی قیمت ہے۔
- فارمولا:
مارکیٹ کیپ = گردش میں موجود سپلائی × موجودہ قیمت
- مثال: اگر گردش میں موجود سپلائی 100 ملین ہے اور قیمت $1 ہے، تو مارکیٹ کیپ = $100 ملین ہوگا۔
3. لیکویڈیٹی (Liquidity) – مارکیٹ میں خریدنے/بیچنے کی آسانی
- لیکویڈیٹی کا مطلب ہے کہ آپ کتنی آسانی سے اپنے ٹوکنز کو بیچ یا خرید سکتے ہیں بغیر قیمت میں زیادہ فرق کے۔
- اعلی لیکویڈیٹی= کم سلیپیج، آسانی سے تجارت۔
- کم لیکویڈیٹی= زیادہ سلیپیج، مشکل سے خرید و فروخت۔
-مثال: اگر کسی ٹوکن کا **لیکویڈیٹی پول** $10 ملین کا ہے، تو آپ بڑی مقدار میں تجارت کر سکتے ہیں۔
4. ہولڈرز (Holders) – ٹوکن رکھنے والے لوگ/ایڈریسز
- ہولڈرز وہ لوگ ہیں جو اس کرپٹوکرنسی کو اپنے والٹس میں رکھتے ہیں۔
- زیادہ ہولڈرز= مضبوط کمیونٹی، کم ہیرا پھیری۔
- کم ہولڈرز= وہیل کی حکمرانی (کچھ لوگوں کے پاس زیادہ ٹوکن ہیں)۔
- مثال: اگر بٹ کوائن کے 1 ملین+ ہولڈرز** ہیں، تو یہ غیر مرکزی ہے۔ لیکن اگر کسی نئے کوائن کے صرف 100 ہولڈرز** ہیں اور ایک وہیل کے پاس
- FDV > مارکیٹ کیپ> (اکثر ٹوکن مستقبل میں جاری ہوتے ہیں)
- اعلی لیکویڈیٹی + زیادہ ہولڈرز = کم خطرہ
- کم لیکویڈیٹی + کم ہولڈرز = زیادہ خطرہ (اسکیمز کا موقع)
اچھا موقع