کرپٹو کی دنیا میں جب ڈیٹا سٹوریج کی بات آتی ہے، تو اکثر ہمیں سست رفتار اور مہنگے سسٹمز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن @Walrus 🦭/acc نے اس کا ایک بہترین حل پیش کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ڈی سینٹرلائزڈ سٹوریج نیٹ ورک ہے جو خاص طور پر بڑی فائلوں (Blobs) جیسے کہ ویڈیوز، تصاویر اور AI ڈیٹا سیٹس کو محفوظ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔


Walrus Protocol کیوں خاص ہے؟


​رایتی کلاؤڈ سٹوریج کے برعکس، Walrus کسی ایک مرکزی سرور پر انحصار نہیں کرتا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا Red Stuff انکوڈنگ سسٹم ہے، جو ڈیٹا کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے نیٹ ورک کے مختلف نوڈز پر پھیلا دیتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کچھ نوڈز آف لائن بھی ہو جائیں، تب بھی آپ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ رسائی رہتا ہے۔


$WAL ٹوکن کی افادیت


​اس پورے ایکو سسٹم کی جان اس کا نیٹو ٹوکن $WAL ہے۔ یہ صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ نیٹ ورک کے پہیے کو چلانے والا ایندھن ہے:



  • Storage Payments: صارفین ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے $WAL استعمال کرتے ہیں۔


  • Staking & Rewards: نوڈ آپریٹرز نیٹ ورک کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے بدلے میں انعامات حاصل کرتے ہیں۔


  • Governance: ٹوکن ہولڈرز پروٹوکول کے مستقبل کے فیصلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔


مستقبل کی جھلک


​آنے والے وقت میں Web3 ایپس اور AI ماڈلز کو جس بڑے پیمانے پر سٹوریج کی ضرورت ہوگی، اس کے لیے #Walrus ایک مضبوط ستون ثابت ہوگا۔ یہ نہ صرف سستا ہے بلکہ ڈیٹا کی ملکیت براہِ راست صارف کے ہاتھ میں دیتا ہے۔


​اگر آپ ایک ایسے پروجیکٹ کی تلاش میں ہیں جو حقیقی دنیا کا مسئلہ حل کر رہا ہو، تو @Walrus 🦭/acc پر نظر رکھنا ضروری ہے۔


#Walrus $WAL #DecentralizedStorage #SuiEcosystem #Web3